Wednesday, August 12, 2015

نانا نانی کی یاد میں۔۔۔

انسان بھی بے حد عجیب ہوتا ہے، ہر وقت اپنے آپ سے لڑ رہا ہوتا ہے۔ اکثر تو اپنے آپ احساسات سے لڑ لیتا ہے اور کبھی اس کے احساسات جیت جاتے ہیں اور اس پر حاوی ہو جاتے ہیں۔
زندگی کے جھمیلوں میں شاید نانا نانی کی یادوں کو وقتی طور پر بھول ضرور جاتی ہوں مگر جب انکی یاد آتی ہے تو دل ہر چیز سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔ آج نانی کو اور پھر ٢٤ کو نانا کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تیرہ سال ہوجائیں گے مگر آج بھی ان کے ساتھ گزرے پلوں کی مہک مجھے بے حد عزیز ہے۔
جب ان کا انتقال ہوا تو میں بہت چھوٹی تھی، زندگی کو، لوگوں کو، محبت کو شاےد سمجھنے کی اہل نہ تھی۔ کبھی کبھار میں سوچتی ہوں کہ کاش مجھے ان کا سایہ دیر تک ملتا مگر الله بہترین منصوبے بنانے والا ہے۔
نانا نانی کی وفات کے بعد ہم نے لاہور جانا کم کردیا، اب تو شاید کوئی بے چینی بھی نہیں ہوتی، ورنہ بچپن میں گرمیوں کی تعطیلات لاہور ہی گزرا کرتی تھیں۔
آج بھی مجھے یاد ہے، نانا عصر کے بعد قرآن پڑھا کرتے تھے اور ہم کزنز کو ہر وقت کھیلتا کودتا دیکھ کر کہا کرتے تھے “یہ جوڑی نامعقولوں کی لاحول ولا“، یا پھر ہماری شیطانیوں پر کوئی شعر سنا دیا کرتے تھے۔
گھر کے سامنے ہی بازار تھا، ہر دوسرے دن شام کو کھیل کود کے بعد نانا کے سامنے جلیبیوں اور سموسوں کی فرمائش ڈال دینا اور انھیں کھا کے بھی الگ خوشی ہوتی تھی۔ نانا ہمیشہ “فوکس“ ٹوفی کھایا کرتی تھے، جسکا ڈبہ وہ اپنی الماری میں رکھا کرتے تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے بھی آج فوکس پسند ہے۔ خیر جب جب وہ الماری کھولا کرتے تھے، تب تب ہم فوکس کھانے کی فرمائش کرتے تھے، جسے وہ پورا کرتے تھے،
لیکن سب سے زیادہ مجھے نانی کی یاد آتی ہے، میں نے ایک سال میں ان کی صحت کو گرتا دیکھا ہے۔ نانی کو کینسر نے ایک سال میں ہی نڈھال کر دیا۔
نانی نے میرے بہت نخرے اٹھائے ہیں، کوئی لاھور سے کراچی آئے جائے اس کے ہاتھ میرے لئے کپڑے سی سی کر بھیجنا، اور جب ہم لاہور جاتے تھے تو انکی الماری کے ایک خانے میں میرے لئے کپڑے ہوا کرتے تھے، جو انھوں نے میرے لئے سیئے ہوتے تھے۔ میرے علاوہ ہم سب بچوں کے نخرے اٹھانا اور اچھی اچھی باتیں بتانا۔
آج بھی مجھے ٢٠٠٢ کا جون جولائی یاد ہے، چونکہ نانی کو چلنے پھرنے میں دقت ہوتی تھی تو روز رات کھانے کے بعد ہم سب بچے بڑے مل کر نانا نانی کے کمرے میں محفل جماتے تھے۔ بچپن کا دور تھا میں بھی بڑھ چڑھ کر لطیفے سنایا کرتی تھی۔ سب خوش ہوتے تھے، نانی بھی۔ ہماری واپسی سے ایک رات قبل نانی نے سب کے سامنے مجھ سے کہا، “میری بیٹی بن جاؤ۔“ جس کا جواب اقرار تھا، اور پھر انھوں نے سب کزنز کو کہا “آج سے یہ تمھاری چھوٹی پھوپھو ہے۔“ آج بھی کوئی چھوٹی پھوپھو یا ماموں بناسپتی بہن کہتے ہیں تو صرف نانی کی یاد ہی آتی ہے۔
آج بھی انہی طرح کے دنوں میں سے ایک دن ہے، انسان کی زندگی کی بےثباتی کا کسی کو کیا معلوم، صرف یادیں ہی تو پیچھے رہ جاتی ہیں۔

Monday, August 10, 2015

Azaadi in Style

In the rapid evolving world, the fashion trends have also become more versatile and vast. Covering each and every aspect of life. 
The spirit of independence is incomplete without decorating our houses & wearing our national colors. Similarly, At Yasmin Zaman it is believed in doing both. The Limited edition Azaadi Collection by Yasmin Zaman is an embodiment of our national spirit, which is aimed to make every girl feel both stylish and patriotic on Pakistan’s Independence Day.

The mini collection consists of 4 unique kurtis; each has a different cut to suit different personality types. The color palette stays true to Pakistan’s ideology and makes use of Green majorly with accents of White.





Yasmin Zaman is famous for her mystery cuts and flairs that are loved by women. This special collection is for all the women to celebrate their patriotism with vigor and zeal. 

Also the good news is, Azaadi Collection is priced between the range of Rs. 2200 – 2600/-

You all can further check her collection at;
https://www.facebook.com/yasminzaman.pk


Azaadi Mubarak :) 

Wednesday, August 5, 2015

بارش۔۔۔

آج وہ خوش تھی, اسے ایسی بارش پسند تھی. بجلی بھی چمکے جارہی تھی مگر آج وہ اسے ڈرا نہیں رہی تھی. بارش کی باریک کنیوں کے ساتھ ہلکی ہلکی ہوا بھی اس کا چہرہ چوم رہی تھی. وہ بارش کی دیوانی تھی اور آج بے انتہا انتظار کے بعد بادل برس رہے تھے. کبھی کبھار انسان کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتا, بس بنا کچھ سوچے, بنا کچھ سمجھے محسوس کرنا چاہتا ہے. اور آج شاید وہ یہی کر رہی تھی.

Let's Become Meherbaan.


The holy month of Ramazaan not only brings religious harmony but a lot of well being for people around us.  People share happiness among others whether they're related by blood or not. It's agreed, without sharing there's no joy. Keeping in mind the fact, Olpers Milk started a beautiful campaign this Ramzaan, #OlpersMeherbaan.

The soul idea was to share iftaar with the less privileged people around us. Almost 25,000 families were reched under this campaign. The Olpers collection hubs were set in the three major cities, i.e: Karachi, Lahore and Rawalpindi, with location/areas varying each day, throughout the month.


This campaign was widely supported on social media platforms as well.








The volunteers despite the rough weather conditions and in the state of fasting worked their best to spread happiness.
Though the month of Ramazaan has ended but let's not put an end to this spirit and keep sharing.